کسی سیانے کا قول ہے کہ
اگر تم بیس برس کی عمر میں خوبصورت ، تیس برس میں طاقت ور، چالیس برس میں دانا ، اور پچاس برس میں دولت مند نہیں تو کبھی خوبصورت ، طاقت ور ، دانا ، اور دولت مند ہونے کی امید نہ کرو
کسی سیانے کا قول ہے کہ
اگر تم بیس برس کی عمر میں خوبصورت ، تیس برس میں طاقت ور، چالیس برس میں دانا ، اور پچاس برس میں دولت مند نہیں تو کبھی خوبصورت ، طاقت ور ، دانا ، اور دولت مند ہونے کی امید نہ کرو







بسم اللہ رخمن راحیم
اللہ ھم صلے علے سیدنا محمد و علے آل سیدنا محمد وبارک وسلم تسلیما کثیرا
شروع اللہ کریم رخمن و رحیم کے بابرکت نام سے جو تمام موجودات کا خالق ومالک و رازق ہے اے خداوند عالمین اے رب العالمین تو نازل فرما بے پناہ درودر ، رخمتیں ، برکتین ، اور پاکیزگیاں اپنے حبیب پاک ﷺ اور ان کی اہلبیت اطہار ؑ پر اور مدد فرما ان کے دوستوں اور جانثاروں کی اور زلیل کر ان کے دشمنوں کو اور لعنت بھیج ان اہلبیت ؑ کے دشمنوں پر
میں اپنے اس پہلے بلاگ کا آغاز ان معصومین ؑ کے زکر پاک سے کر رہا ہوں کہ جو وجہ تخلیق کائنات ہیں جن کے صدقے کائنات کو رزق عطا ہوتا ہے
آئمہ اہلبیت ؑ کی شان اقدس اور قرآن حکیم
اللہ کریم قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے وَ کَذٰ لِکَ جَعَلنٰٰکُمۡ اُمَتً وَ سَطاً ۔۔۔۔۔۔۔۔الخ (سورۃ بقرہ س نمبر ۲ آیت نمبر ۱۴۳ پارہ نمبر دو) ترجمہ : اسی طرح تم کو عادل امت بنایا تاکہ اور لوگوں کے مقابلہ میں تم گواہ بنو اور رسول ﷺ تمھارے مقابلہ میں گواہ بنیں ۔
سلیم بن قیس سے مروی ہے کہ حضرت علی ؑ نے فرمایا کہ امت عادل اور لوگوں پر گواہ ہم ہیں اور خاص ہم ہی اس سے مقصود خدا ہیں اور حضرت رسول اکرم ﷺ ہم پر گواہ ہیں اور ہم گواہاں خدا ہیں اس کی مخلوق پر اور اس کی رحمت ہیں زمین پر اور ہم ہی وہ ہیں جن کے بارے میں خدا نے کذالک جعلنکم امۃ وسطاً فرمایا (بحوالہ شواہد التنزیل حاکم ابو القاسم)۔
خدا وند کریم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے وَاعۡتَصِمُوۡ بِحَبۡلِ اللہ جَمِیعاً وَ لاَ تَفَرَۡ قُوۡ ۔۔۔۔۔ الخ (سورۃ آل عمران س نمبر ۳ آیت نمبر ۱۰۳ پارہ نمبر چار) ترجمہ : خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو
حضرت امام جعفر صادق ؑ سے روایت ہے کہ آپ ؑ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہم اہلبیت ؑ خدا کی رسی ہیں سب کو خدا نے مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا (بحوالہ صواعق محرقہ ، تفسیر ثعلبی) ۔
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے کہ کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمۃٍ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ ( سورۃ آل عمران س نمبر ۳ آیت نمبر ۱۱۰ پارہ نمبر ۴ )۔ ترجمہ : تم کیا اچھے گروہ ہو کہ لوگوں کی ھدایت کے واسطے پیدا کیے گئے ہو تم (لوگوں ) کو اچھے کام کا تو حکم کرتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابو جعفر سے روایت کی ہے کہ خیر امت سے مراد اہلبیت رسول ﷺ ہیں ( بحوالہ تفسیر سیوطی جلد ۲ ص ۶۴)۔
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے کہ فَقَدۡ اٰ تَیۡناَ اٰلِ اِبۡرٰ ھِیۡمَ الۡکِتٰبَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ (سورۃ نساء س ۴ آیت ۵۴ پ ۵) ترجمہ : ہم نے تو ابراھیم کی اولاد کو کتاب اور عقل کی باتیں عطا فرما ئی ہیں اور ان کو بہت بڑی سلطنت بھی دی
ابراھیم ؑ کی اولاد حضرت رسول ﷺ اور ان کے اہلبیت ؑ ہیں اور یہی لوگ اس آیت کے مصداق ہیں کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ ان حضرات سے بہتر کوئی شخص دنیا میں ان صفات کو مستحق نہیں قرار پاسکتا اسی بنا پر ایک روایت میں ہے کہ آل سے ابراھیم ؑ سے آل محمد ﷺ اور کتاب سے قرآن اور حکمت سے نبوت اور ملک عظیم سے امامت مراد ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ یہ صفات سوائے آل محمد ﷺ کے اور کسی میں نہیں پائی جاتیں
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے یَاَیُۡھَا الَۡذِیۡنَ اٰمَنُو اَطِیۡعُو اللہ وَ رَسُولَ وَ اُولیِ الاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۔۔۔۔۔۔۔ الخ ( سورۃ نساء س ۴ آیت ۵۹ پ ۵) ترجمہ : اے ایمان والو خدا کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی اور جو تم میں صاحبان حکومت ہوں انکی اطاعت کرو اور اگر تم کسی بات میں جھگڑا کرو پس اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس امر میں خدا اور رسول ﷺ کی طرف رجوع کرو یہی تمھارے حق میں بہتر ہے اور انجام کی راہ سے بہت اچھا ہے
مفسرین نے اس سے اختلاف کیا ہے کہ اولی الامر سے مراد کون ہیں یعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد حاکم وقت ہے مگر حق یہ ہے کہ اس سے مراد آئمہ معصومین ؑ ہیں کیونکہ خدا نے جس طرح اپنی اور رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اسی طرح ان کی اطاعت بھی تمام بندوں پہ واجب کی ہےتو یہ شخص خدا اور رسول کا نائب ٹھرا تو معصوم ہونا بھی ضروری ہوا کیونکہ اس کو عقل قبول نہیں کرتی کہ گنہگار کی اطاعت کا خدا حکم دے اور بارہ اماموں ؑ کے سوا کسی کی عصمت کا کوئی شخص نا مدعی ہے نہ دعوی ہوسکتا ہے اس کے علاوہ یہ تو ظاہر ہے کہ یہ حکم خداوندی کسی خاص زمانے یا وقت یا کسی شخص کے واسطے نہیں بلکہ بر شخص ہر وقت کے واسطے قیامت تک کے لیے ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اطاعت بھی عام ہے امور دنیا و امور دین کی تخصیص نہیں بلکہ عام اطاعت کی اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر اولی امر سے مراد دنیا کے بادشاہ ہوں تو مذہب اسلام کا کوئی ٹھکانہ نا رہے گا کیونکہ کہیں نصاری بادشاہ ہیں کہیں یہود مذہب والے کہیں کفار اور اگر مسلمان ہی مقصود ہوں تو پھر ان میں بھی خدا جانے کتنے فرقے ہیں اور حدیث رسول ﷺ کے مظابق ایک کے علاوہ باقی سب جہنمی ہیں پھر کہیں سنی بادشاہ ہیں کہیں شیعہ بادشاہ کہیں کچھ مسلمان اطاعت کریں تو کس کی اور سب کی کریں تو یہ بھی محال ہے تب ضرور ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کے علاوہ کوئی اور شخص مراد ہو اور اس شخص کا دنیا میں موجود رہنا بھی ضروری ہے ورنہ خدا کا حکم لغو و بیکار ہوجائے گا معازاللہ اسی بنا پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کیے بغیر مر جائے تو وہ کافر کی موت مرتا ہے اور ظاہر ہے کہ بادشا کی معرفت ھاصل نہ کرنے سے کوئی شخص کافر نہیں ہوسکتا اور یہ حدیث جابر بن عبداللہ انصاری ؓ میں بھی اس کی تصریح موجود ہے کہ اولی الامر سے مراد آئمہ معصومین ؑ ہین بلکہ اس میں تو بارہ اماموں ؑ کے نام تک تصریحاً موجود ہیں
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے وَ اَنَۡ ھٰذَ صِرَاطِیۡ مُسۡتَقِیۡماً فَاتَۡبِعُوۡہُ ۔۔۔۔۔۔۔ الخ ( سورۃ نعام س ۶ آیت ۱۵۳ پ ۸) ترجمہ : یہی میرا سیدھا راستہ ہے اسی پر چلے جائو
خدا کا سیدھا راستہ تو وہی ہے جس کو اس نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کی زبانی تمام خلائق کو بتا دیا کہ میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں اگر تم ان کا دامن تھامے رہو گے تو میرے بعد ہر گز گمراہ نہ ہوگے اک قرآن اور دوسرے اہلبیت ؑ یہاں تک یہ دنوں میرے پاس حوض کوثر پہ پہنچیں اب ہر شخص بجائے خود انصاف سے دیکھے اور غور کرے کہ وہ قرآن اور اہل بیت ؑ کے اقوال اعمال افعال پر عمل کرتا ہے یا نہیں اگر کرتا ہے تو ہر گز گمراہ نہیں اور یہی صراط مستقیم ہے
وما علینا الا بلغ مبین