پھر امڈ آئے ہیں یادوں کے سہانے بادل

بسم اللہ رخمن راحیم

پھر امڈ آئے ہیں یادوں کے سہانےبادل

پھر دل زار میں اک شعلہ ارماں جاگا

میرے افکار کے بجھتے ہوئے ریزے چونکے

میرے خرماں کا سلگتا ہوا عنواں جاگا

بہت جد ادھر رند احقر لعباد اپنی حسرتوں کی داستاں خود اپنے خون سے قرطاس ہستی پہ نوشتہ کرے گا بشرط کہ زندگی نام کی حسینہ داغ مفارقت نا دے جائے

Leave a Reply